Showing posts with label طرز. Show all posts
Showing posts with label طرز. Show all posts

Saturday, August 23, 2014

INQEELAAB انقلاب


انقلاب  ۔۔۔  انقلاب  ۔۔۔  انقلاب
 ہم انقلاب چاہتے ہیں
 ہم تبدیلی چاہتے ہیں
۔۔۔ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہئے
۔۔۔ اس نظام کو تبدیل ہونا چاہئے
۔۔۔اس حکومت کو تبدیل ہونا چاہئے
غریب بھی تبدیلی چاہتا ہے ‘ امیر بھی تبدیلی چاہتے ہیں
بچے ‘ بوڑھے ‘ جوان ‘ عورت مرد ۔۔۔ آج کا ہرانسان تبدیلی چاہتا ہے۔
معاشرے میں ہر طرف  یہی  نعرہ ہے  ’’  ہم تبدیلی چاہتے ہیں   ‘‘۔۔۔  ’’ ہم انقلاب چاہتے ہیں   ‘‘
حکومت بھی یہی کہتی ہے کہ  تبدیلی چاہئے اور ہم حکومت سے بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ تبدیلی چاہئے۔
حزب اقتدار کی بھی رٹ ہے کہ تبدیلی چاہئے  اور حزب حزبِ مخالف  بھی یہی چاہتی ہے کہ تبدیلی چاہئے۔

اورپھر احتجاجی مظاہر ے کئے جاتے ہیں ‘ ریلیاں نکالی جاتی ہے ‘  لانگ مارچ کئے جاتے ہیں ‘ سول  نافرمانی کی جاتی ہے  سرکاری  املاک  اور خزانوں  کو نقصان پہنچایا جاتا ہے ... انقلاب کیلئے .... تبدیلی کیلئے
۔۔۔۔۔۔آج بھی  آزادی اور انقلاب مارچ  بڑی تبدیلی لانے کیلئے جاری ہے۔۔۔۔۔۔
لیکن  لوگ کیوں تبدیلی چاہتے ہیں  تبدیلی کی ضرورت کیوں پڑتی ہے  ؟

لوگ تبدیلی چاہتے  ہیں  جب امیر امیر ہوتا جائے اور غریب کو روٹی بھی نہ ملے   امیر کے گھروں میں ایرکنڈیشن چلے اور غریب کے گھر میں دیا بھی نہ جلے۔
جہاں  انسان انسان کےغلام ہونگے ‘ جہاں انسانی  حقوق کی پامالی ہوگی وہاں تبدیلی نعرے لگائے جائیں گے اور تبدیلی آئیگی
جہاں تنگی ہوگی‘  بے سکونی ہوگی‘ بد نظمی ہوگی اور بے انصافی ہوگی  ۔۔۔ تبدیلی کی باتیں ہوگی۔
جب  معاشرے میں   کرپشنبدعنوانی، رشوت خوری،  اقربا پروری،  منافقت اور قتل و غارت گری  عروج  پہ  ہو تو  لوگ شدت سے تبدیلی کے خواہاں ہوتے ہیں.
جب ظالم ،  جابر  اور  ڈکٹیٹر  حکمراں  ہوں  تو  انکے  خلاف تبدیلی  کے  نعرے  لگیں  گے۔

ہم تبدیلی چاہتے ہیں  (Change We Need)


تبدیل  ہونا  اللہ  کی نعمتوں  میں  سے  ایک  بڑی  نعمت  ہے۔
اللہ تعالیٰ بھی چاہتے ہیں  کہ اس کے  بندے تبدیل ہوں  قومیں تبدیل ہوں ۔۔
۔۔۔ اور اللہ اُن ہی کی حالت بدلتے ہیں جو خود اپنی حالت بدلتے ہیں ۔۔۔


إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ     ( سورۃ الرعد ۱۱)
"  بے شک الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے  "


حساس اور عاقل و بالغ انسان ہی  تبدیلی لاتے ہیں ۔   جو  بے حس  ہیں  وہ  کبھی تبدیل نہیں ہوتے ۔
انسان کا احساس اور  اُسکی سوچ اور سمجھ ہی اُسے بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

اور یہی احساس اور سوچ  و سمجھ ہی  ہمارا  اخلاق  و کردار  ترتیب  دیتا ہے ‘ ہماری  طرز  زندگی  ان ہی کے گرد گھومتی ہے۔
میرا  اخلاق  کیسا  ہے ۔۔۔۔ جیسا میں محسوس کرتا  ہوں ‘   جیسا  میں سوچتا   اور سمجھتا   ہوں  اور  پھر جیسا  میں عمل کرتا  ہوں۔

"  عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی "

اس  کا  مطلب  ہے  جب  انسان  کا  احساس  اور  سوچ   و  سمجھ  بدلے  گا  تب  اخلاق  بھی  بدل  جائے  گا۔
مثال کے طور پہ  جب کسی کو احساس ہی نہ ہو کہ وہ بدتمیز ہے  یا  جب  کوئ  سوچے  اور  سمجھے  ہی نہ کہ اسنے بدتمیزی کی ہے تو وہ کیسے اپنے آپ کو بدلے گا۔

اب جیسا کہ آج لوگ محسوس کر رہے ہیں‘ سوچ  اور سمجھ رہے ہیں کہ آزادای  چاہئے‘ ہر چیز کو  آزاد  ہونا چاہئے‘ بچے  کو  بھی  آزادی  چاہئے‘  بیوی  کو بھی آزادی  چاہئے  اور عام عورتوں کو بھی آزادی ملنی چاہئے اور   میڈیا  کو بھی آزادی  ملنی چاہئے   ۔۔   پوری دنیا کو آزادی چاہئے۔

ہمیں آزاد  ہونا  چاہئے  ہمیں  آزادی  چاہئے‘   لیکن کس سے:۔

اگر آزادی چاہئے ’ اللہ و رسول اللہ ﷺ کی اطاعت  و فرمانبرداری بجا لانے  کیلئے  تو  یہ صحیح ہے ‘  مستحسن  ہے ۔۔۔ہمیں ضرور آزاد ہونا چاہئے۔
لیکن اگر اِس نظام کو‘ اِن  بچوں کو ‘ اِن عورتوں ‘ میڈیا کو آزاد  ہونا چاہئے ’ اللہ و  رسول اللہ ﷺ کی نافرماناں کرنے میں ۔۔۔ تو پھر یہ باطل ہے‘ جھوٹ ہے ‘ فریب ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی مخالفت میں آزادی کبھی نہیں ہوتی اور  نہ ہی  ہونی چاہئے  اور خاص کر اسلام کہ نام پہ حاصل کردہ ملکِ عزیز میں۔

عورتیں بے پردہ ہوجائیں ۔۔۔ کیا یہ آزادی ہے‘  کیا  اِسے آزادی  کہتے  ہیں ؟
بچے بے نمازی ہوجائیں‘ کافروں کی سی طرز  زندگی اپنالیں اور اُن  ہی کے راستے کو اختیار کرلیں اور ہم کہیں کہ یہ آزادی ہے۔ کیا یہی تبدیلی ہے اور اسی انقلاب  کے ہم خواہاں ہیں ۔۔۔  پھریہی ہوتا ہے کہ چند سالوں بعد یہی  بچے اپنے والدین کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔

ہم بھی تبدیلی چاہتے ہیں ... ہم بھی  اِنقلاب چاہتے ہیں ...  لیکن  جو تبدیلی جو اِنقلاب بھلائی  لائے ‘ اچھائی  لائے اور بھلائی و  اچھائی صرف’’ اللہ کی رضاء ‘‘ سے ہی آ سکتی ہے۔
جس چیز سے  اللہ تعالیٰ  راضی ہے اس میں خیر ہے ۔ تبدیل ہونا  چاہتے ہین تو  اُسے اپنائیں۔

اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اُس کے چھوڑنے میں ہی خیر ہے‘ اُسے اپنانے میں کبھی خیر نہیں اور نہ اُسے اپنا کر جو تبدیلی ہم حاصل کریں گے اُس سے کوئی کامیابی مل سکتی ہے‘ نہ امن و امان قائم ہو سکتا ہے اور  نہ ہی تنگی ‘ بے سکونی‘ بد نظمی‘ بے انصافی‘ کرپشن  و  بدعنوانی ‘  رشوت خوری‘ اقربا پروری،  منافقت اور قتل و غارت گری  سے ہی نجات مل سکے گا۔
اِس کا مطلب ہوا  اگر ہم کوئ  مثبت تبدیلی چاہتے ہیں‘ کوئ  ایسا  اِنقلاب  لانا  چاہتے ہیں جس کے نتائج  مثبت اور دور رس ہوں تو ہماری آزادی  ’’ شریعت  ‘‘کے دائرے میں ہونی چاہئے۔ محدود  کرلیں  ہم  اپنی  آزادی  کو  اللہ تعالیٰ کے فرمان اور اللہ کے محبوب ﷺ کے فرمان کے اندر‘  باہر ہرگز نہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور  ہماری آزادی کیلئے  یہ ریڈ لائٹ لگی ہوئی ہے۔ اِس ریڈ لائٹ کے باہر ہمیں کبھی آزادی نہیں ملے گی‘ ہرگز نہیں۔
شریعت سے باہر جس نظام کو بھی ہم لائیں گے اُس میں آزادی نہیں غلامی ہی ہوگی۔
پس ضروری ہے کہ ہم اپنی احساسات‘ سوچ اور سمجھ کو  ’’ قرآن  و  سنت ‘‘ کے مطابق بنا لیں۔ ہم نے جو بھی سوچنا ہے اور سمجھنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اُس کے رسول  ﷺ سنت  کے مطابق ہوں ‘ مخالف  نہ ہوں ۔۔۔ ۔۔۔  اگر یہ طرز عمل ہم اپنالیں اور اپنی زندگی کا مقصد  بنالیں  تو تبدیلی آئے گی اور بہترین قسم کی تبدیلی آئے گی۔
ہمیں  اپنی سوچ  اور سمجھ کو ’’ قرآن  و  سنت ‘‘ کی حد میں محدود کرنا ہوگا‘ پھر ہمارے احساسات بھی ہماری سوچ  و سمجھ  کے مطابق ہوگی ۔ جب  ہماری سوچ و سمجھ  یہ ہو جائے گی کہ  جو شریعت کے مطابق ہے  وہ حق ہے  اور  جوشریعت کے خلاف ہے  وہ باطل ہے ۔  جس چیز سے اللہ راضی ہوتا ہے وہ حق ہے اور جس چیز سے اللہ  ناراض ہوتا ہے وہ باطل ہے
اور جو باطل ہے  اُسے چھوڑنا ہے تو ہماری اخلاق بھی قرآن و سنت کے مطابق ہونگے۔ 


انقلاب  شیخ مجیب الرحمٰن نے بھی لایا  اور پاکستان کو دو ٹکرے کرگیا۔
لیکن کیا بنگلہ دیش میں بسنے والوں کی تقدیر بدل گئی ؟
کیا غریب بنگالیوں کا  روٹی‘ کپڑا اور مکان  کا   خواب پورا ہوگیا ؟ کیا  بنگلہ دیش سےبے سکونی‘ بد نظمی اور بے انصافی کا خاتمہ ہوگیا ؟
کیا بنگلہ دیش میں کرپشن نہیں رہا؟  کیا وہاں انسانی حقوق  پامال نہیں ہو رہے ؟
سب جانتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔ آخر کیوں ؟ کیونکہ یہ تبدیلی اللہ کے احکام کے مطابق نہ تھی ‘ یہ تبدیلی شریعت کے دائرے کے اندر نہ تھی‘ اُس کے بالکل مخالف تھی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

اسی طرح عراق‘ مصر‘ لیبیا‘ یمن‘ الجزائر ‘ تیونس وغیرہ میں بھی انقلابات سے تبدیلی آ ئی  لیکن  چیونکہ یہ تبدیلیاں شریعت کی حد سے بندھی ہو ئی  نہیں تھیں ۔۔۔ لہذا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

آج  وطنِ عزیز میں بھی اسی طرح کی تبدیلی کے خواب دیکھے جا رہے ہیں ۔
بے شک ہم بھی وطن عزیز کے حالات سے خوش نہیں  ہیں اور  ہم بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  تبدیلی لانے کی جس طرح کی کوشش کی جارہی ہے ‘ کیا اس سے کوئی مثبت نتائج سامنےآنے کی اُمید  کی جا سکتی  ہے‘ ہرگز نہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ مثبت دور رس تبدیلی کہاں سے اور کیسے آئے گی  ؟

تبدیلی کی مختلف سطح ہے۔  
تبدیلی آنی  چاہئے   پہلے انفرادی  سطح  سے‘ پھر  خاندانی  سطح  سے‘ پھر  معاشرتی  سطح سے اور آخر  میں  ملکی  یا  حکومتی سطح سے۔
یعنی جو تبدیلی  نیچے سے   شروع ہو کر اوپر کی  طرف  آئے گی وہ مثبت اور پائیدار ہوگی ۔
جبکہ  آج  سب  اِس کوشش میں  ہیں کہ  اوپر  سے تبدیلی ہو‘ جو فطرت  اور قانونِ قدرت کی سراسر منافی ہے۔
آپ احتجاج کریں ‘ لانگ مارچ کر یں ‘ قتل و غارت گری کریں اور حکومت پہ  حکومت بدلتے جائیں ‘ جتنی بھی اوپر کی سطح کے لوگوں کو  بدلتے  جائیں دوسرے اسی معاشرے سے  اُن  جیسے  یا  اُن  سے بھی  بدتر  اُن  کی جگہ لے لیں گے  اور  حالات  بد  سے  بدتر  ہوتے جائیں گے۔  کیونکہ   فرد  ہی  معاشرے  کی اکائی  ہے اور  معاشرے   کی اسی اکائی سے حکومت بنتی ہے۔
لہذا آج تبدیلی کی جتنی بھی کوششیں ہو رہی ہے  غلط سمت سے ہو رہی ہے۔
ہمیں اپنی خرابی نظر نہیں آتی‘ ہمیں ساری خرابی اوپر کی سطح پہ نظر آتی ہے ۔

ہم گھر سے نکلے ہیں حکومت گرانے ۔۔۔
۔۔۔۔ اِس حکومت کو تبدیل ہونا چاہئے ۔۔۔
۔۔۔۔ ہم اِس معاشرے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔ ہم اپنی ہاتھ سے تبدیلی لائیں گے۔۔۔
یہ ساری کی ساری نافرمانیاں ہم خود ختم کرنا چاہتے ہیں
لیکن
ہم خود  اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانیاں کرنے سے نہیں چوکتے ۔۔۔
ہم خود  اپنے آپ کو شریعت کے دائرے میں لانا نہیں چاہتے ۔۔۔۔
ہم خود  تبدیل نہین ہوتے ۔۔۔۔
پھر جو تبدیلی آتی ہے  اُس  میں  پہلے سے  بڑھ کر شر و  فساد  ہوتا ہے۔
اگرکبھی  نافرمانی  انفرادی سطح پر تھی تو آج معاشرتی سطح پر ہے۔
اگر کوئی کبھی چھپ کر نافرمانی کرتا تھا اور سرعام کررہا ہے۔
آج  ایسے لوگ جن کی منافقت ‘ جن کا کرپشن اور جن کا  بد کردار ہونا  سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے  وہ  قوم  کی تقدیر تبدیل کرنے آجاتے ہیں اور معصوم عوام کو پہلے سے   بھی زیادہ  برے حالات کے طرف دھکیل دیتے ہیں۔

قوم  کا  درد  رکھنے  والے سمجھدار  اور عقلمند  لوگ جانتے  ہیں کہ تبدیلی  انفرادی  سطح  سے  آتی ہے اور یہی  تبدیلی مثبت اور پائیدار ہوتی ہے۔
جتنے بھی انبیاء علیہ السلاۃ و السلام  آئے انہوں نے  اپنی قوم کی ایک ایک فرد پہ محنت کی اور ایک صالح قوم اور صالح معاشرہ کی تشکیل کر گئے۔
قوم و معاشرے کے ایک فرد کے طور پر  سب سے پہلے مجھے خود تبدیل ہونا ہوگا۔
میں تبدیل ہونگا  ۔۔۔ میرے بچے تبدیل ہونگے ۔۔۔ تو میرا خاندان تبدیل ہوگا اور پھر یہ معاشرہ  اور  یہ  ملک بھی تبدیل ہوگا ۔
اب  ہمارے  اندر  یہ  تبدیلی  کہاں  سے  اور  کیسے آئے گی ؟
ہم اپنی ہاتھوں سے ‘ پاؤں سے‘  آنکھ‘ کان اور زبان سے  اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کئے جاتے ہیں تو کیا ہمیں اپنے  ہاتھ  ‘ پاؤں ‘  آنکھ‘  کان یا  زبان کو بدلنا ہوگا۔
نہیں‘ ہمیں صرف اور صرف اپنا ۔۔۔ دل ۔۔۔ بدلنا ہوگا۔ 

کیونکہ رسولِ کریم ﷺ کا فرمان ہے:

انسان  کے  جسم  میں  ایک  گوشت  کا  ٹکڑا  ہے  جب  وہ  ٹھیک  کام  کرے  تو سمجھو  کہ  پورا  جسم  ٹھیک  کام  کرے  گا  اور  جب  وہ  خراب  ہو جائے  تو  پورے  جسم  کا  نظام  خراب  ہو جائے  گا  اور  وہ  دل  ہے۔   ( بخاری و مسلم)

 ایک اور حدیث میں ہے کہ 

رُسول الله  ﷺ نے اپنے  قلبِ  اطہر  کی  طرف  تین  مرتبہ  اشارہ  کرتے  ہوئے  فرمایا!  تقویٰ  یہاں  ہوتا  ہے' !  تقویٰ  یہاں  ہوتا  ہے' !  تقویٰ  یہاں  ہوتا  ہے ۔ (صحیح مسلم)

اور تقویٰ  اللہ  تعالیٰ  کا  ڈر  ہے  اور  اللہ  تعالیٰ  کا  ڈر  اور تقویٰ  اُس  دل  میں  پیدا  ہوتا  ہے:

 ۔۔۔ جس دل میں  آخرت کے حساب اور جزا و سزا پر یقین ہو
 ۔۔۔ اور  جو  دل  انسان  کو  اللہ  کی پکڑ  اور اس کے عذاب کے ڈر سے اُس کے تمام عضاء کو اللہ کی نافرمانیوں سے بچا لے
۔۔۔ اور جو دل اُس کے تمام عضاء کو اللہ  تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں لگا دے۔
لہذا
ہمیں اپنی سطح سے تبدیلی لانی ہے‘ اپنا دل بدلنا ہے۔ جب ہمارا  دل بدل جائے گا  تو  ہمارا  اخلاق بھی اچھا ہو جائے گا  اور  ہمارے خاندان کا اخلاق بھی اچھا ہوجائے گا اور ہم اچھی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرسکیں گے۔
اب یہ دل کیسے بدلے ؟
تو جان لیں کہ ہمارے رحیم و کریم رب نے بڑے آسان نشخے  دیئے  ہیں  دل  بدلنے کے جنہیں میں یہاں بیان کر رہا ہوں:

 نمبر 1   ۔ اللہ تعالیٰ  کی  معرفت:

یہ دل تبدیل ہوگا اللہ تعالٰی کی معرفت سے اور اللہ تعالٰی کی معرفت نصیب ہوگی علم سے کیونکہ اللہ تعالٰی ہی کا فرمانِ مبارک ہے
 إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ  ( سورة فاطر ۲۸ )
  " اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔"
عجب بات ہے کہ آج ہم دنیا کی مختلف چیزوں کو تو اچھی طرح جانتے ہیں لیکن نہیں جانتے تو اپنے رب کو نہیں جانتے۔ آج کتنے ہیں جو اپنے رب سے ہی ناواقف ہیں۔

اللہ تعالٰی کوں ہیں ؟
 اللہ تعالٰی کے صفات کیا ہیں ؟
اللہ تعالٰی نے ہمیں کیوں پیدا کیا ؟
 اللہ تعالٰی کے ہم پر حقوق کیا ہیں ؟
ہمیں اللہ سبحانہ و تعالٰی کی کیسی قدر کرنی چاہئے ؟

  وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ   (  سورة الزمر  ۶۷ )
" اور ان لوگوں نے الله کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔"

ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم بھی اُن لوگوں میں تو نہیں ہیں ۔ کیا ہم نے اپنے  خالق ‘ مالک ‘ راذق و  ربِ کریم کو پہچان لیا ہے  اور اس کا حق ادا کر رہے ہیں ۔
آج کتنے ہیں جو کہنے کو تو مسلمان ہیں لیکن شرک میں  ڈوبے  ہوئے  ہیں اور  نہ ہی سمجھتے  ہیں اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں ۔۔۔ معلوم  ہی نہیں کہ شرک کیا  ہے اور توحید کیا ہے ۔
اِس کے لئے علم کی ضرورت ہے اور جب علم ہی نہیں ‘ اللہ کی پہچان ہی نہیں تو اللہ کا  ڈر  و  خوف کیسا‘ تقویٰ  دل  میں  کیسے پیدا  ہوگا۔ ہمارے رب نے بالکل صحیح فرمایا ہے :


إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ  ( سورة فاطر ۲۸ )
’’   اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ ‘‘


نمبر 2 ۔۔  دعا :   دل بدلے گی دعا سے اور اس کے لئے ہمارے پیارے رہنمائے اعظم نے جو دعا سکھائی ہے وہ ہے

 يا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَي دِينِكَ
  ’’ اے  دلوں  کو  پھیر نے  والے!  ہمارے  دلوں  کو  اپنے  دین  پر ثابت  رکھ۔‘‘
اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ القُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ
" اے اللہ دلوں کے پھیرنے والے ہماری دلوں کو اپنی طاعت کی طرف پھیر دے۔ "


نمبر 3 ۔۔ دل کو تبدیل کیجئے قرآن مجید سے :

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (  سورة الأنفال ۲ )
" بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ "
 قرآن مجید کی ایسی کتنی پیاری پیاری آیتیں ہیں جن میں سے صرف ایک آیت سے لوگوں کی زندگی منٹوں میں تبدیل ہوگئی ہے۔
 کیاں ہم ایسے بے ثمار واقعات کو نہیں جانتے ؟ تو کیا قرآنِ کریم ہماری اپنی دل کی دنیا تبدیل کرنے ست قاصر ہے ؟
قرآنِ کریم کر ذریعے ہم بھی تبدیل ہو سکتے ہیں شرط ہے ہم اس میں اپنا دل لگائیں اور سمجھ کر پڑھیں اور اس کا حق ادا کریں۔


نمبر 4 ۔۔۔ حدیثِ رسول ﷺ  بھی دل کو تبدیل کرنے کا باعث ہے:

اِس  دل  پہ  پیاروں کی بات کا اثر ہوتا ہے۔
اگر ہمیں بنی کریم ﷺ سے پیار ہے اور پیار بھی اپنی جان سے زیادہ تو آپ ﷺ کی فرمان مبارک ہمارے دل کی دنیا تبدیل کرنے کے لئے کافی ہے۔
ایسے کتنے بندے ہیں جنہیں بنی کریم ﷺ کی ایک حدیث پہنچی اور ان کی دنیا بدل گئی۔
لیکن عجب بات ہے کہ آج ہم جھوٹ ‘ غیبت‘ خیانت وغیرہ کے بارے میں احادیث سنتے ہیں لیکن بدلتے نہیں۔


 نمبر 5 ۔۔۔  نماز سے اپنے دل کو تبدیل کیجئے:

 سورہ عنکبوت میں نماز کا سب سے اہم فلسفہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ
 إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ
"بے شک نماز بے حیائی اوربری بات سے روکتی ہے ۔ ‘‘
 اور سارے مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ اللہ کا کہنا صحیح ہے لیکن پھر بھی ہماری نماز ہمیں فاحشی اور برائی سے کیوں نہیں روکتی بلکہ ہماری برائی کی وجہ کر ہماری نمازیں چھوٹ جاتی ہے۔
اس لئے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں بغیر سمجھے۔
اگر ہمیں صرف اس بات کا ادراک ہو جائے کہ ہم کس عظیم ذات کے سامنے کھڑیں ہیں تو اِتنا ہی کافی ہے   ہمیں فحاشی و منکرات سے روکنے کیلئے۔


 نمبر 6 ۔۔ زکوٰۃ ذریعہ ہے دل کو پاک کرنے کا

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿ سورة التوبة ١٠٣﴾  
 ’’ آپ ان کے اموال میں سے زکوِٰلے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں اور انہیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی اور خدا سب کا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ ‘‘
لہذا زکوٰۃ ادا کیجئے اور اپنے دل کی دنیا تبدیل کیجئے۔


 نمبر 7   ۔۔۔ روزہ سے تقویٰ حاصل کیجئے اور اپنے دل کی دنیا تبدیل کیجئے

 ارشادِ باری تعالٰی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  ﴿سورة البقرة  ١٨٣ ﴾
  " اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے،  تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔"


نمبر 8 ۔۔۔  حج سے یہ دل تبدیل ہو سکتا ہے

 وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ﴿سورة البقرة  ١٩٧ ﴾
" اپنے لئے زادُ راہ فراہم کرو کہ بہترین زادُ راہ تقویٰ ہے اوراے صاحبانِ عقل! ہم سے ڈرو ۔ ‘‘
 حج کی آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے تقویٰ ہی کو مقدم رکھنے کا درس دیا ہے۔ لہذا حج کرنے سے بھی ہماری دل تبدیل ہوگی اور ہم تبدیل ہو سکتے ہیں۔


نمبر 9 ۔۔۔ استغفار سے یہ تنگی دور ہوجائے گی یہ مصیبت ٹل جائے گا۔

توبہ و استغفار انسان کے دل گناہوں کے سیاہ دھبے دور کرکے اُسے کام یابی کے بلند مدارج تک پہنچا دیتی ہے۔
بحیثیت مسلمان مومن بندوں کو کثرتِ توبہ واستغفار کے ذریعہ اپنے دلوں سے معصیت کے زنگ کو زائل کرتے رہنا چاہیے او ر حالات کی تبدیلی کیلئے استغفار اکسیر اعظم ہے۔

 وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿سورة النور ٣١﴾
" اے اہل ایمان! تم سب مل کر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ ‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:
" جو شخص پابندی سے استغفار کرتا رہتا ہے اللہ تعالی اسکے لئے ہر تنگی سے نکلنےکا راستہ بنا دیتے ہیں، ہر غم سے اسے نجات عطا فرماتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے
روزی عطا فرماتے ہیں جہاں سے اسکو گمان بھی نہیں ہوتا-" (ابو دائود)
اپنے گناہوں کا اعتراف اور توبہ و استغفار کیجئے اور ساتھ ہی پوری امت کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرنی چاہئے۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ سنا ہے کہ: جو شخص مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے استغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر مومن اور ہر مومنہ کے( استغفار) کے عوض ایک نیکی لکھ دے گا۔ ( طبرانی)
استغفار کے آسان صیغے:
۱۔۔ استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ۔
۲۔۔ رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین۔
۳۔۔  استغفراللہ العظیم الذی لا الٰہ الا ہوالحی القیوم واتوب الیہ۔


نمبر 10 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر

دل کی تبدیلی کیلئے ضروری ہے کہ کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جائے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے

 أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ  ﴿سورة الرعد ٢٨ ﴾
"  یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ "

 اور اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا کہ

وَلَذِکْرُ اللهِ اٴکبَرْ
”ذکر خدا اس سے بھی بلند و بالاتر ہے“



اوپر بیان کردہ تبدیلی کے اِسلامی طریقۂ کار کیا مشکل ہے۔
کتنے لوگ ہیں جو اِن میں سے صرف ایک سے تبدیل ہوئے ہیں۔ ہمارے عظیم رب نے ہمیں دس آسان طریقے بتائیں ہیں جوسارے کے سارے صراطِ مستقیم کے طرف لے جانے والی ہیں
 لیکن آج کا مسلمان اِن طریقوں کو چھوڑ کر طاغوت کے ہر طریقے سے تبدیلی چاہتا ہے‘ اِنقلاب لانا چاہتا ہے۔
اور پھر جو تبدیلی آتی ہے اُس میں شر ہی شر اور فساد ہی فساد ہوتا ہے‘ جس اِنقلاب میں مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہوتا ہے‘  جس میں ملک کو افراتفری‘ بے سکونی‘ غربت اور پھر بے حیائی و دہشت گردی کے بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور ملک کے ہر گلی میں شیطان ناچ رہا ہوتا ہے۔
اسی تبدیلی‘ اسی اِنقلاب کے خواہاں ہیں آزادی اور انقلاب مارچ والے۔۔

میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میں تبدیلی کے خلاف نہیں لیکن ایسی تبدیلی سے اللہ پناہ چاہتا ہوں۔

اے اللہ ہم ایسی تبدیلی‘ ایسی اِنقلاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو طاغوت کے طریقے سے آئے۔
اے اللہ ایسے طاغوت کے پجاریوں سے ارضِ پاک کی اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما۔
اے اللہ سارے مسلمان کو دین کی سمجھ عطا کر کہ وہ تیرے رضاء کے مطابق تبدیلی کیلئے جد جہد کریں۔
اے اللہ ہمیں اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر دے کہ تو ہم سے راضی ہو اور ہم تجھ سے راضی ہوں ۔
اے اللہ اُمتِ مسلماء کو ذلت و غلامی سے نجات دے۔ اُمت کی مغلوبیت کو غلبہ میں بدل دے۔
اے اللہ ہمیں ایسا رہنما عطا کر جو تیرے بندوں کی تیرے پسندیدہ دین کے طرف رہنمائی کرے اور اسلامی طریقۂ کار کے مطابق تبدیلی لاکر ملک و قوم کی امن و امان کی راہ پر چلائے۔
آمین۔